حکومت پاکستان نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے تیاری اورجوابی حکمت عملی (پی۔پی۔آر۔پی) پر مبنی منصوبے کا آج آغاز کردیا۔ ابتدائی طورپراس منصوبہ کے لئے 595 ملین امریکی ڈالرز کی رقم مختص کی گئی ہے جس کا مقصد اپریل سے دسمبر 2020 کے 9 ماہ کے عرصے کے دوران ہنگامی صورتحال میں عوام کو کورونا کی وباءسے بچانے کے لئے پاکستان کی استعدادکار بڑھانا، وباءسے مقابلے کی تیاری،مالی وانتظامی شعبہ جات میں امداد اور کورونا کی روک تھام کے علاوہ نظام صحت کی موثر تشکیل وتعمیر کرنا ہے۔ 
 
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس جامع پلان کا اجراکرتے ہوئے ’پی۔پی۔آر۔پی‘کی تیاری میں شریک تمام فریقین کی کوششوںکا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خاص طورپر نڈر طبی عملے، ڈاکٹرز، نرسز اور میڈیکل سٹاف کی پاکستان کے عوام کے لئے خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وباءاور بھوک سے پاکستان کے عوام کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کورونا سے نمٹنے کے لئے قیادت کی اجتماعی دانش اورجوابی حکمت عملی کو سراہا۔ 
 
’پی۔پی۔آر۔پی‘ کو پاکستان میں کورونا کی روک تھام اورا س سے بچاو کی کوششوں میں خامیوں کو دور کرنے کا ’خاکہ‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کورونا دنیا کو جگانے کی ایک گھنٹی ہے اور آج دنیا میں یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماوں پر زور دیا کہ وہ ”مشترکہ دشمن“ کے خلاف متحد ہوکر آگے بڑھیں۔ انہوں نے زوردے کر کہا کہ کورونا وباءکے سماجی واقتصادی اثرات کو صحت کے محاذ پر کورونا کے خلاف کوششوں سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔ وزیراعظم کے غریب ممالک کے ذمے ”قرض میں ریلیف کے عالمی اقدام“ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ حکومت پاکستان کورونا کے معاشی اثرات کے مقابلے کے لئے جامع اقدامات کی تیاری کی خاطر تمام متعلقہ فریقین سے رابطے کررہی ہے۔ انہوں نے کورونا سے نبردآزما پاکستان کے عوام کی ضروریات میں مدد کے لئے عالمی شراکت داروں کے جذبے اور آمادگی پر شکریہ ادا کیا۔ 
 
پلان کے اجراءکے موقع پر وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این۔ڈی۔ایم۔اے) کے چئیرمین، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک کے نمائندوں کے علاوہ چین، یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، فرانس، جمہوریہ کوریا اور آسٹریلیا سمیت سفارتی برادری کے شراکت دار موجود تھے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیز، انٹرنیشنل آرگنائزیشنز، عالمی این جی اوز اور میڈیا کے لوگوں نے بھی ورچوئل طریقہ سے پلان کے اجراءمیں شرکت کی۔ 
 
وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار نے جی 20 کے قرض میں ریلیف کے اقدام کے علاوہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے مدد کی فراہمی اور پروگرامز کا خیرمقدم کیا۔ کورونا وائرس سے نبردآزما ہونے کے لئے حکومت کی جانب سے 8 ارب امریکی ڈالر کے پیکج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قرض میں ریلیف کی کوششوں کی حمایت سے پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کی معیشت کو سنبھالا دینے اور خطرات سے بچاو میں ملٹی لیٹرل بینکس کی موثر شمولیت ناگزیر ہے۔
 
این ڈی ایم اے کے چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہاکہ عالمی بحران کے باعث غیرمعمولی انسانی حالات فوری عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے لئے مدد لازم ہے تاکہ وہ آبادی کو لاحق خطرات میں کمی لاسکیں اور کورونا وباءکے مقابلے میں جوابی اقدامات، بحالی اور امداد کے لئے بھرپور اقدامات کرسکیں۔ 
 
کورونا پوری دنیا میں تباہی پھیلا رہا ہے، ایسے میں گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا اس وباءکو صرف اس وقت ہی شکست دے سکتی ہے جب مل کر عالمی سطح پر غیرمعمولی اتحاد کا مظاہرہ کیاجائے اور مل کر اس ذمہ داری کونبھایا جائے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ دنیا میں پانچواں بڑی آبادی والا ملک ہے جس کی قومی سرحدات پر بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل وحرکت رہتی ہے۔ 
 
کورونا سے مقابلے کے اس منصوبے میں تمام فریقین سے کہاگیا ہے کہ وہ مل کر کام کریں اور اپنے وسائل اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی وصوبائی سطح پر ملک بھر میں اس کے نفاذ میں اشتراک عمل سے مدد کریں۔ تمام شراکت دار مل کر کام کریں گے تاکہ درج ذیل اہداف حاصل ہوسکیں؛
٭ پورے ملک اور پورے معاشرے کی سوچ اپناتے ہوئے جوابی ہنگامی اقدامات کی تیاری بڑھائی جائے ؛
٭ عوام کو کورونا سے آگاہ کرنے کی بڑے پیمانے پر مہم شروع کی جائے ؛
٭ کورونا سے متعلق اہم معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے دیگر افراد سے رابطوں کی پڑتال اور کورنٹین وآئیسولیشن مراکز کابندوبست کرنا ؛
٭ وباءاور اس کے رجحانات پر نظر رکھنے کے لئے وسیع پیمانے پر نگرانی کا انتظام ؛
٭ ایک دوسرے سے محفوظ دوری اختیار کرنے جیسے کورونا وائرس سے بچاو کے صحت عامہ کے ضروری اقدامات ؛
٭ وائرس کی طبی جانچ کے لئے ضروری لیبارٹری آلات اور استعداد کار بڑھانے کے لئے اقدامات؛
٭ صحت کے نظام کی استعداد میں اضافہ کرنا تاکہ مریضوںکی تعداد میں اضافہ کی صورتحال سے نمٹا جاسکے ، اس ضمن میں ادویات وضروری طبی اشیاءکی فراہمی اور مریضوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد؛
٭ ہنگامی طورپر نقد رقوم ، خوراک کی فراہمی اور تعلیمی سرگرمیوں میں مددفراہم کرنا ؛
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈھنوم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ”کورونا وباءصحت عامہ کے پہلے سے دباو کے شکار نظام پر غیرمعمولی اضافی بوجھ کا باعث بن رہی ہے جس سے متاثرہ عوام کی مشکلات اور ان کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ کورونا وباءمیں تیزی سے اضافے کے ساتھ ہی پاکستان کو آج سب سے زیادہ آسان اور فوری طورپر دستیاب وسائل درکار ہیں تاکہ جب اور جہاں اسے ضرورت ہو، وہاں انہیں فوری بروئے کار لاسکے۔ “
 
کورونا کے خلاف اس منصوبے کو شروع کرنے کے لئے ورلڈ بینک نے فوری طورپر 240 ملین امریکی ڈالرز کا پیکج مہیا کیاہے تاکہ کورونا وباءسے مقابلے کے لئے فوری اور موثر طورپر پاکستان کی کوششوں میں مدد فراہم ہو۔ جنوبی ایشیاءکے لئے ورلڈ بنک کے علاقائی نائب صدر جناب ہارٹ ونگ شیفر نے کہاکہ” ہماری مدد سے پاکستان کو کورونا سے موثر طورپر نمٹنے کے لئے اپنے صحت کے نظام کوبہتر بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ وباءتیزی سے پھیل رہی ہے اور کمزور پاکستانی سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔“ انہوں نے بحران کے سماجی ومعاشی اثرات میں کمی کے لئے سپورٹ کی اہمیت پر زور دیا جو عالمی بینک فراہم کررہا ہے۔
 
ایشیائی ترقیاتی بینک کے پیہم ترقی اور علمی اہتمام کے شعبہ کے نائب صدر جناب بیم بینگ سوسانتونو نے کہاکہ ”بحران سے نمٹنے میں عالمی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، اقوام متحدہ کے نظام اور عالمی برادری کے قریبی اشتراک عمل سے ہم پاکستان کی مدد پر پوری طرح سے قائم ہیں۔ عوام کی صحت کی حفاظت کے لئے ہم آسان اور فوری وسائل کی دستیابی، سماجی مدد بڑھانے اور معیشت کی بتدریج بحالی میں مدد فراہم کریں گے۔“کورونا وباءسے نمٹنے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک پہلے ہی 52 ملین امریکی ڈالر سے زائد مدد کی پاکستان کوفراہمی کی منظوری دے چکا ہے۔ 
 
تمام شرکاءنے اپنی اس مشترکہ خواہش کا اظہارکیا کہ اتحاد کے ساتھ کام کیاجائے، مشکل کی اس گھڑی میں معاشرے کے کمزورونادار افراد کی اعانت ، مالی وسائل اور بحالی میں مدد کے لئے یہ کوششیں وباءکے نتیجے میں پیدا شدہ سماجی اور مالی اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اجتماعی طورپرزور دیاگیا کہ پاکستان سے کورونا کے اثرات ختم کرنے اور اس کی روک تھام کے لئے رسپانس پلان کو ہرممکنہ حد تک بھرپور مدد فراہم کی جائے۔ 
 
کورونا کے خلاف پاکستان کی تیاری اور جوابی حکمت عملی کے اس منصوبہ (پی۔پی۔آر۔پی) کی مکمل تفصیل درج ذیل پتہ پر دستاب ہے۔ (https://unic.org.pk/pprp-covid-19/)
٭٭٭٭٭
177/2020
Close Search Window