اسلام آباد: مورخہ 17 جنوری 2020

ہم بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت کے ’روس ڈائیلاگ2020‘ میں انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان کی مذمت کرتے ہیں جس میں دیگر کے علاوہ انہوں نے ایک بار پھر ”دہشت گردی“ کی بھارتی الزام کی گردان دہرائی، کشمیری نوجوانوں کو ”انسداد انتہاءپسندی کیمپ“ میں رکھنے اور پاکستان کو ’ایف اے ٹی ایف‘ کی سیاہ فہرست میں شامل کرنے جیسی شرانگیزی اور فتنہ پردازی کی۔

یہ بیان ان کی انتہاءپسند سوچ اور ذہنی دیوالیہ پن کی عکاسی ہے جو بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کرجانے کا واضح ثبوت ہے۔

بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے جرم کا ارتکاب کرکے کس منہ سے دوسروں پر انگشت نمائی کرتا ہے۔ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں اسی لاکھ کشمیری پانچ اگست 2019ءسے قید وبند کی صعوبتوں کاسامنا کررہے ہیں۔ نولاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کررہی ہے، بھارتی افواج کو خصوصی اختیارات اور امن عامہ جیسے ظالمانہ سیاہ قوانین ظلم ڈھانے کا ذریعہ بن چکے ہیں، تیرہ ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے گرفتارکیاگیا اور اپنے گھر والوں سے جدا کردیاگیا۔ جنرل راوت کی ”ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپ“ میں کشمیری بچوں کو رکھنے کی بات انتہائی قابل نفرت ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

جنرل راوت کی ’ایف اے ٹی ایف‘ سے متعلق گفتگو بھارت کی ان کوششوں کا ایک اور ثبوت ہے جو فیٹف کے تکنیکی طریقہ کار کو جانبدرانہ اور تنگ نظری کے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کررہا ہے۔ پاکستان نے مسلسل دنیاکو بھارتی بدنیتی اور کردار کشی کی مہم کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ایف اے ٹی ایف ارکان بھارتی فتنہ انگیزی کو مسترد کریں گے۔

ہمیں یہ بھی توقع ہے کہ عالمی برادری بی جے پی حکومت کی ان اوچھی حرکتوں کا بھی نوٹس لے گی جو بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں درپیش نا قابل قبول صورتحال، امتیازی قوانین اور اقدامات کے خلاف بھارت کے اندر بڑھتے احتجاج اور بھارت میں رہنے والی اقلیتوں سے اس کی نفرت و دشمنی سے توجہ ہٹانے کے لئے کررہا ہے۔ بھارت کو اس کے غیرقانونی اقدامات پر کٹہرے میں کھڑا کرنا لازم ہے۔
٭٭٭

33/2020
Close Search Window