اسلام آباد: مورخہ 4 اگست 2020
 
ہم پاکستان کے سیاسی نقشے کے بارے میں بھارتی وزارت امورخارجہ کا بیان یکسر مسترد کرتے ہیں۔ بھارت مکاری اور حقائق مسخ کرکے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں پانچ اگست دوہزار انیس سمیت اپنے غیرقانونی اور ناقابل قبول اقدامات چھپا نہیں سکتا۔ 
 
ایک ایسے ملک کی طرف سے اس نوع کے الزامات دوسروں پر تھونپنا نہایت مضحکہ خیز ہے جو توسیع پسندی کی اپنی سرشت سے مجبور اور کھلم کھلا ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرتا ہے۔ 
 
بھارت 1947 سے جموں وکشمیر کے حصوں پر غیرقانونی طورپر قابض اور دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ 72 سال سے زائد عرصے سے کشمیریوں پر بہیمانہ ظلم وبربریت کے باوجود بھارت انہیں طاقت کے بل پر غلام بنانے کی اپنی کوشش میں ناکام ہے۔
 
پاکستان کا موقف واضح اور غیرمبہم ہے۔ تنازعہ جموں وکشمیر کا حل اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دینے میں ہے۔ پاکستان کی حکومت، قیادت اور عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں وخواہشات کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے پختہ عزم پر کاربند ہیں۔ 
 
پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سیاسی نقشہ اس دائمی عہد کا پختہ اعادہ ہے۔ 
317/2020
Close Search Window