اسلام آباد: یکم فروری 2020
 
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے 29، 30 جنوری 2020ءکو کینیا کا دورہ کیا اور پاکستان اور افریقہ میں تجارتی ترقی کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ نیروبی میں منعقدہ اس کانفرنس کا اہتمام خارجہ امور نے تجارت وٹیکسٹائل کی وزارت سے مل کر کیاتھا۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور مشیر تجارت عبدالرزاق داود نے مشترکہ طور پر کانفرنس کی صدارت کی۔ 21 افریقی ممالک سے 600 سے زائد شرکاءاس میں شریک ہوئے جبکہ پاکستان سے کاروباری شخصیات کے وفد نے بھی کانفرنس میں شرکت کی ۔ یہ کانفرنس دونوں جانب کی کاروباری برادری اور حکومتی سطح پر روابط کے حوالے سے انتہائی کامیاب رہی۔ 
 
کانفرنس کا افتتاح کینیا کے صدر عزت مآب اوہورو کنیاٹا نے کیا۔ کینیا کے صدر نے نیروبی میں پاکستان افریقہ تجارتی ترقی کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کینیا اور دیگرافریقی اقوام پر زوردیا کہ وہ اس بہترین موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ معاشی وتجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کریں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان تجارتی ومعاشی ترقی کی بہت زیادہ گنجائش اور صلاحیت موجود ہے۔ صدر کنیاٹا نے جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 
 
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی ”افریقہ سے روابط بڑھانے“ کی پالیسی کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے اس ضمن میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ انہوںنے کینیا کو ”افریقہ کا دروازہ“ قرار دیتے ہوئے کہاکہ نیروبی میں اس کانفرنس کا انعقاد اس امر کا واضح اظہار ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان اور کینیا سمیت پورے افریقہ اور ساوتھ ساوتھ وسیع پیمانے پر باہمی تعاون واشتراک عمل فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ 
 
وزیر خارجہ نے اپنے دورے کے دوران دوطرفہ اہم ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے کینیا کی کابینہ کے سیکریٹری مشرقی افریقی کمیونٹی، علاقائی ترقی، کابینہ سیکریٹری برائے صنعت وتجارت وکوآپریٹوز اور کابینہ سیکریٹری برائے امور خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ کابینہ سیکریٹریز نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کینیا میں کانفرنس کے انعقادکا خیرمقدم کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے زوردیا کہ پاکستان نے افریقہ کے ساتھ اپنے روابط کو فروغ دینے کے سوچے سمجھے فیصلے کے تحت یہ اقدام اٹھایا ہے تاکہ ان تعلقات کو ہمہ جہت انداز میں فروغ دیاجائے۔ کینیا افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہاکہ کینیا کا ”بِگ 4 ایجنڈا“ پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے سے ملتا جلتا ہے اور دونوں ممالک اس ضمن میں ایک دوسرے سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے پاکستان اور کینیا کے تعلقات کو بہترین قرار دیتے ہوئے ان تعلقات کو اعلی ترین معاشی روابط میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ کینیا کے کابینہ سیکریٹیریز نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی وتجارتی تعلقات کے فروغ کے وسیع تر امکانات کی موجودگی سے اتفاق کیا۔ وزیرخارجہ نے متعدد شعبہ جات کی نشاندہی کی جن میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید تقویت دی جاسکتی ہے ان میں ’سسٹر پورٹس سٹی معاہدہ‘، ائیر یونیورسٹی اور مشترکہ شپنگ لائن شامل ہے۔ 
 
کابینہ سیکریٹری برائے خارجہ امور محترمہ ریچل اومامہ سے ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور کینیا کے ہمہ جہت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے پر اتفاق کیاگیا۔ اس موقع پر پاکستان اور کینیا کی فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر بھی دستخط ہوئے۔ 
 
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے نیروبی میں اقوام متحدہ کے دفتر کا بھی دورہ کیا جہاں اقوام متحدہ کے سکونت اور ماحولیاتی تغیر سے متعلق دفاتر واقع ہیں۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل زینب ہوا بنگورا، سکونت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ میمونہ محمد اور ماحولیاتی تغیر سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ اینگر اینڈرسن سے ملاقات کی۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے نظام میں پاکستان کے فعال اور متحرک کردار بالخصوص امن کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کی کارروائیوں میں کاوشوں کو بیان کیا۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کا احترام کیا اور ہمیشہ اس کی قراردادوں پر عملدرآمد میں پیش پیش رہا ہے۔ وزیرخارجہ نے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کی صورتحال سے بھی انہیں آگاہ کیا جہاں جبروتشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے ظلم کی نئی حدوں کو چھو لیا ہے۔ بالخصوص گزشتہ چھ ماہ سے وہاں کے عوام غیرانسانی محاصرے، قید وبند کی صعوبتوں اور قدغنوں کا شکار ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ خواتین کی بے حرمتی کے واقعات میں بھی کئی گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ 
 
علاقائی تناظر میں وزیر خارجہ نے افغان امن عمل کی حمایت میں پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس عمل کو امن کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ 
 
وزیر خارجہ کا کینیا کا دورہ وزیراعظم عمران خان کے افریقہ کے خطے کے ساتھ قریبی سیاسی و معاشی تعلقات کے فروغ کی سوچ کے تحت انجام پایا۔ قبل ازیں نومبر2019ءمیں وزارت خارجہ نے ’انگیج افریقہ‘ کے عنوان سے سفراءکی کانفرنس کا بھی انعقاد کیاتھا۔ 
60/2020
Close Search Window