اسلام آباد: مورخہ 9 مارچ 2020

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ میرس پین سے آج ٹیلی فون پرگفتگو کی اور کورونا کی عالمی وباءاورباہمی دلچسپی کے دیگرامور پر تبادلہ خیال کیا۔

قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کورونا وبا اور اس کے نتیجے میں منفی معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے آسٹریلیا کی حکومت کے اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا۔ 2010 کے سیلاب اور 2005ءمیں زلزلے کے دوران آسٹریلیا کی جانب سے پاکستان کی بھرپور امداد کو یاد دلاتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص پاکستانی طالب علموں کی بھرپور دیکھ بھال کی جائے گی۔

وزیرخارجہ نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ کو پاکستان میں کورونا وبا پر قابو پانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کی ترقی پزیر ممالک کے ذمے واجب الاداءقرض میں رعایت دینے اور اس کی ازسرنوتشکیل کے خیال کو پیش کیا تاکہ یہ رقوم غریب ممالک اپنے عوام کی قیمتی زندگیاں بچانے اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے استعمال کرسکیں۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جاری پابندیوں اور قدغنوں کو بھی اجاگر کیا جو مسلسل نویں ماہ میں داخل ہوچکی ہیں۔ ان قدغنوں کے باعث اطلاعات کی ترسیل، شہریوں کو بیماری سے لڑنے کے لئے درکار ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکی فراہمی میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ انہوں نے زوردیا کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی طرف سے پابند سلاسل کئے گئے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیاجائے۔

وزیرخارجہ نے آسٹریلوی ہم منصب کی توجہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون اور چوتھے جینیوا کونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی طرف سے اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی موقع پرستانہ کوششوں کی طرف دلائی۔

کورونا عالمی وباءسے نمٹنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں وزراءخارجہ نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

٭**

159/2020
Close Search Window