اسلام آباد: مورخہ 5 فروری 2020ئ
 
یہ سمجھنا انتہائیءناگزیر ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات سے نہ صرف جموں وکشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قانون کی صریحا خلاف ورزی کی بلکہ بھارت نے خود اپنے دستور کی پامالی کا بھی ارتکاب کیا۔ درحقیقت یہ کشمیروں کی شناخت مٹانے اور ’کشمیریات‘ کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ 
 
بھارت کوزعم تھا کہ اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی جغرافیائی سالمیت کے ساتھ چھیڑچھاڑسے وہ کشمیری عوام کے اپنے جائز حق کے حصول کے جذبے کومجروح کرنے میں کامیاب ہوجائے گا یا پھر انہیں ان کے بنیادی حق استصواب رائے پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردے گا۔ لیکن بھارت کو ان دونوں مقاصد میں بدترین ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ 
 
عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی میڈیا اور سول سوسائیٹی سب ہی نے بھارت سے مقبوضہ کشمیرکے عوام پر ظلم وستم اور جبر واستبداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیری عوام کی حمایت میں دنیا کے تقریبا تمام بڑے شہروںمیں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے بڑے ممالک نے بھارت کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہارکیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چھ ماہ کے عرصہ کے دوران تین مرتبہ جموں وکشمیر کے مسئلے پر غور کیا۔ 
 
عالمی برادری کی جانب سے آزمائش کی اس گھڑی میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کی حمایت میں کچھ بڑھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ لاک ڈاون کلاک پر ایک بھی مزید لمحہ عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر پر بوجھ ہے۔ عالمی برادری بنیادی آزادیوں اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی حمایت میں ٹھوس کردار ادا کرے اور بھارت پر زور دے کہ اقوام متحدہ کے ’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ کو بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حقائق کو بذات خود جان سکیں۔ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ برائے بھارت وپاکستان کو بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے وہاں جانے کی اجازت دے۔ اگر بھارت کچھ چھپانا نہیں چاہتا تو عالمی میڈیا اور سول سوسائیٹی کو اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حقائق جان سکیں۔ 
 
آخر میں، میں پاکستان کے اس پختہ عزم کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم بہادر کشمیری عوام کی عزت ووقار کے تحفظ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابل تنسیخ اور جائز استصواب رائے کے حق کے حصول تک ان کی جدوجہد میں بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ 
65/2020
Close Search Window