اسلام آباد: مورخہ 7 فروری 2020

پاکستان نے بھارتی قیادت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سختی سے مسترد کردی ہے۔ بھارتی صدر رام ناتھ کووند اور وزیراعظم نریندرا مودی کے حالیہ بیانات بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی و غیر انسانی اقدامات پر ہونے والی عالمی تنقید اور آر ایس ایس کے تابع بی جے پی حکومت کی اقلیت مخالف پالیسیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ یہ بی جے پی کا انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان مخالف بیان بازی کا روایتی اور پرانا ہتھکنڈا ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات جعلسازی پر مبنی اور من گھڑت ہیں جنہیں بھارتی قیادت پروپیگنڈا کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ مبینہ طورپر پاکستان میں ستائی اقلیتوں کے لئے بھارتی حکومت کا خود کو اقلیتوں کے وطن کے طور پر پیش کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ بھارت ملک کے اندر اور باہر اقلیتوں سے نام نہاد ہمدردی کے لئے ڈرامہ بازی نہ کرے کیونکہ اقلیتوں کے حوالے سے بھارت کا دامن کسی بھی خیر سے خالی ہے۔

آرایس ایس۔بی جے پی کی ”ہندوراشٹرا“ کے لئے مہم کے نتیجے میں بابری مسجد کی بے حرمتی کی گئی اورشہید کیاگیا، گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام اور نسل کشی کی گئی، اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی سنگین جرائم کا ارتکاب جاری ہے جبکہ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کے قتل عام کے ان گنت واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایاجاتا ہے، عموما یہ جرائم ریاست کی ملی بھگت سے کرائے جاتے ہیں۔ بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے آر ایس ایس اور بی جے پی لیڈروں کی سرپرستی میں ’ہندتوا‘ انتہاءپسندوں کے یونیورسٹی کے کیمپسز میںگھس کر گولیاں برسانے کے واقعات ہی کافی ہیں۔

ہندوتوا کی انتہاءپسندانہ اور عدم برداشت کی بڑھتی ہوئی سوچ بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے جس سے نہ صرف بھارت کے اندر رہنے والی اقلیتوں بلکہ علاقائی امن و استحکام کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ بھارت کے اندررہنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی بدترین بدسلوکیوں اور بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی بحران و غیرانسانی لاک ڈاو ¿ن کا نوٹس لے۔ ہمیں امید ہے کہ دنیا غیرقانونی اقدامات پر بھارت سے بازپرس کرے گی اور اسے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائے گی۔

67/2020
Close Search Window