(پریس ریلیز)
268/2020
پاکستان نے بھارتی وزارت امور خارجہ کے بے بنیادالزامات سختی سے مسترد کردئیے

اسلام آباد: مورخہ 23 جون 2020

پاکستان امور خارجہ کے لئے بھارت کی وزارت کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کرتاہے اورقطعی مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کا محض ایک بہانہ سمجھتا ہے تاکہ اس آڑ میں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے عملے کی تعداد میں 50 فیصد کمی کرے۔

پاکستان نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کے حکام کی جانب سے سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کی کسی بھی خلاف ورزی کے بھارتی الزام کو دوٹوک طورپر مسترد کرتتے ہوئے اعادہ کرتا ہے کہ پاکستانی عملے نے ہمیشہ عالمی قانونی اور سفارتی آداب کی حدودقیود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دئیے ہیں۔

پاکستان اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشن کے عملے کو ڈرانے دھمکانے کے بھونڈے الزامات بھی مسترد کرتا ہے۔ بھارتی حکومت کی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم بھارتی ہائی کمشن کے ملوث پائے جانے والے اہلکاروں کی غیرقانونی سرگرمیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ بھارت کی خارجہ امور وزارت کا بیان بھارتی ہائی کمشن کے اہلکاروں کے جرائم چھپانے اور حقائق کو ایک بار پھر مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

بھارت کی تازہ کارروائی بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور قابض بھارتی افواج کی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے توجہ ہٹانے کی مایوسی پرمبنی ایک اورکوشش ہے۔ بھارت کے لئے بہتر ہوگا کہ جنوبی ایشاءمیں امن واستحکام کو داو پر لگاتے ہوئے نئے مسائل پیدا کرنے کے بجائے داخلی اور خارجی امور پر توجہ دے۔ پاکستان عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کرتا آرہا ہے کہ ’بی۔ جے۔ پی‘ حکومت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

بھارتی ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ طلب کیاگیا اور بے بنیادبھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی۔ بھارتی ناظم الامور کو پاکستان کے اس فیصلے سے آگاہ کیاگیا کہ جوابی اقدام کے طورپر بھارتی ہائی کمشن کے عملے کی تعداد50 فیصد کم کی جارہی ہے۔ بھارتی ناظم الامور سے کہاگیا کہ اس فیصلے پر سات روز میں عمل درآمد کریں۔

268/2020
Close Search Window