سفارت خانہ پاکستان،
واشنگٹن ڈی سی
٭٭٭
پریس ریلیز
پاک امریکہ تعلقات میں 2025 مثبت رجحانات کا سال تھا 2026 مثبت نتائج کا سال ہوگا: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ
واشنگٹن ڈی سی، 02 جنوری 2026
امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے 2025 مثبت رجحانات کا سال تھا ، 2026 نتائج کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امکانات مثبت و واضح ہیں تاہم باہمی مفادات پر مبنی دو طرفہ تعلقات کو ہر ممکنہ شعبے میں فروغ دینے اور موجود امکانات کو عملی جامہ پہنا نے کے حوالے سے سالِ ھذا اہم ترین سال ہوگا۔
جمعہ کے روز سفارت خانہ پاکستان میں میڈیا نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے 2025 میں پاک امریکہ تعلقات کے ضمن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا سالانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کے واقعات نے دنیا بھر میں بسنے والو پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا اور ان میں پاکستانیت کو ازسر نو ترو تازہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 88 گھنٹوں میں پاکستانی قوم نے نہ صرف دو قومی نظریے کی بھرپور حفاظت کی بلکہ عالمی افق پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم دنیا کے حساس ترین علاقے میں مضبوط ترین قوم اور علاقائی امن و سلامتی کے ضامن کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
میڈیا اور سفارت کاری کی مضبوط شراکت داری اور ملکی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے میڈیا نمائندگان کے مثبت کردار کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ سفارت کاری کے لحاظ سے گذشتہ سال ایک کامیاب ترین سال تھا جس میں ہماری قیادت کا کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی اعلیٰ قیادت کے امریکی قیادت سے روابط کے نتیجے میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات پر خوشگوار اثرات مرتب ہوئے بلکہ عالمی افق پر پاکستان کے کردار کو تقویت ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان حاصل شدہ کامیابیوں میں سب سے اہم کردار ہماری قیادت کا تھا جس کو تسلیم کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ اپنی تعیناتی کے روز اول سے ان کی کوشش رہی ہے کہ امریکی قیادت کو باور کرایا جائے کہ پاکستان دنیا کے حساس ترین خطے میں واقع ایک اہم ملک ہے جس کی امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا آٹھ دہائیوں پر مشتمل اس شراکت داری میں اتار چڑھاؤ کے باوجود بھی یہ حقیقت مسلم ہے کہ دونوں ملکوں کی شراکت داری کے مثبت نتائج پوری دنیا پہ محیط رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے پاکستان اور امریکہ جب بھی اکٹھے ہوئے ہیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ جدید تاریخ میں ایسی بڑی اور کامیاب پارٹنرشپ کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
بڑی آبادی کے حامل دنیا کے دو بڑے ملکوں کی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کی شراکت داری محض خواہشات یا انتخاب نہیں بلکہ جغرافیائی ، معاشی،آبادیاتی ، معاشرتی اور دیگر وجوہات کی بنا پر وقت کی اہم ضرورت اور ناگُزیر ہے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے عنان حکومت سنبھالتے ہی اعلیٰ قیادت کے مابین روابط کے نتیجے میں خوشگوار تاثر پیدا ہوا جس میں معاشی تعلقات پر مبنی طویل المدتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس ضمن میں سفیر پاکستان نے معدنیات، توانائی، آئی ٹی اور صحت تعلیم انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف شعبہ جات کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔
آئی ٹی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے ملک کی نوجوان نسل کی استعدادِکار کو اجاگر کیا جو نہ صرف انگریزی زبان پر عبور رکھتی ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اپنی قابلیت کو عالمی سطح پر تسلیم کرا چکی ہے۔
ملکی معدنی ذخائر کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر منعقدہ دو کانفرنسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ملکی وسائل کو مکمل طور پر کارآمد بنا یا جا ئے تاکہ ان وسائل سے علاقائی اور عالمی طور پر استفادہ کیا جا سکے۔
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی قومی سیکیورٹی پالیسی میں واضح طور پردرج ہے کہ ہمارا محل وقوع ہمیں نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اہمیت بھی فراہم کرتا ہے اور ہماری خارجہ پالیسی کا محور جیو پولیٹکس کی بجائے جیو اکنامکس ہوگا۔ جغرافیائی محل وقوع کے ساتھ ساتھ پاکستان پیداواری لاگت کے حساب سے بھی خطے کے دیگر ملکوں پر بھی سبقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیداواری لاگت (لیبر کاسٹ) چین کے مقابلے میں 174 فیصد کم ہے
پاکستان اور امریکہ کے مابین تجارت کے اعدادشمار پیش کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ گذشتہ سال اجناس کی تجارت (گڈ ز ٹریڈ) کی مد میں 16.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکہ کو پاکستانی برآمدات کے حوالے سے 11.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سروسز کے ضمن میں 39.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال امریکہ سے ترسیلات زر کی مد میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان اور امریکہ کے مابین ٹریڈ ٹیرف کے حوالے سے طے پانے والے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کے اعلان کے بعد ہم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ نئے ٹیرف کے اطلاق کے حوالے سے خطے میں پاکستان کی مسابقتی منفعت کسی طور متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے اصولی موقف کا ادراک کیا گیا جس کے لئے ہم امریکی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔
پاک امریکہ معاشی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے سفیر پاکستان نے امریکی ریاستوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور پیش رفت کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان روابط نے مضبوط اور دیرپا معاشی تعلقات کے امکانات کو مزید روشن اور تقویت فراہم کی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبہ جات میں جاری ڈائیلاگ کا ذکر کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام تر شعبہ جات میں ہماری شراکت داری ادارہ جاتی اور منظم طریقے سے آگے بڑھے۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ گذشتہ سال میں ہونے والی کامیابیاں بجا طور پر قابل تحسین ہیں تاہم ان کامیابیوں اور پیش رفت کے نتائج میں جو امکانات پیدا ہوئے ہیں ان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے جس پر ہم یکسوئی سے عمل پیرا ہیں۔ ختم شُد
