سفارت خانہ پاکستان
واشنگٹن ڈی سی
٭٭٭
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے خصوصی ویبینار کا اہتمام
واشنگٹن ڈی سی، 05 فروری 2026
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے خصوصی ویبینار کا اہتمام۔
ویبینار میں سینیئر قانون دان احمر بلال صوفی، سینیٹر مشاہد حسین سید ، سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کی شرکت۔
تقریب میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے صدرِ پاکستان، وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعظم /وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھے گئے۔
گذشتہ سات دہائیوں سے زائد حل طلب مسئلے کے مختلف پہلوؤں ، تنازعے کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کا ردعمل، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی افادیت و اطلاق اور مستقبل کے حوالے سے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں کی اہمیت آج بھی مسلمہ اور قابل اطلاق ہیں : مایہ ناز قانون دان احمر بلال صوفی۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 پر عمل درآمد کی ذمہ داری تمام رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے: احمر بلال صوفی۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی ملکی و ریاستی قانون پر غالب ہے: ماہر قانون دان۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 103 چارٹر کی دفعات کو کسی بھی رکن ملک کے ملکی قوانین یا دوطرفہ معاہدات پر فوقیت دیتا ہے: احمر بلال صوفی۔
بین الاقوامی مروجہ قوانین کے تحت کشمیریوں کو حق خود ارادیت حاصل ہے: احمر بلا ل صوفی۔
اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق غاصب افواج کے خلاف مزاحمت اوربیرونی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے: احمر بلال صوفی۔
گلگت بلتستان ، آزاد جموں و کشمیر اور چینی علاقے کے حوالے سے بھارتی دعوے بے بنیاد اور غیر قانونی ہیں : احمر بلال صوفی۔
بھارتی غاصبانہ اور غیر قانونی دعوؤں کی ہر فورم پرموثر نفی انتہائی ضروری ہے: احمر بلا صوفی۔
عالمی شہرت یافتہ تاریخ دانوں اور محقیقن کی رائے میں باقاعدہ سازش کے تحت کشمیری عوام کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق سے محروم کیاگیا: سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری۔
حق خود ارادیت پر مبنی مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سالہا سال سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق کے منتظر ہیں: اعزاز احمد چودھری۔
سابق خارجہ سیکرٹری کی جانب سے کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے مابین مشترک اور منفرداقدار کی نشاندہی۔
پاکستان کشمیری اور فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا: سابق سیکرٹری خارجہ۔
غزہ میں جاری ہولناک جنگ بندی کی غرض سے پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کے پیس بورڈ کی حمایت کی گئی۔
بطور ممبر، پاکستان پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی آواز بنے گا: سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری۔
مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین آپس میں جڑے ہوئے ہیں ۔ دونوں معاملات کے حوالے سے پاکستان کا موقف روزِ اول سے واضح ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
برطانوی تاریخ دان اینڈریو رابرٹس کے مطابق ماؤنٹ بیٹن اور ریڈکلف کی ملاقات میں کشمیر کو دیگر علاقوں سے منقطع کرنے کی سازش بنی گئی: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
امریکی صدر کی جانب سے پیس بورڈ کے قیام نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر اس اہم فورم پر اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
فلسطینوں کے قتل عام کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ میں وا ضح تبدیلی آئی ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
153 ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کیا جانا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے : سینیٹر مشاہد حسین سید۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ اگست کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدام نے چین کو بھی اس مسئلے کا حصہ بنا دیا ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
بھارتی قیادت نے واضح کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بعد ان کی نظریں چین کے زیر انتطام علاقے پر ہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
حالیہ ادوار میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آیا ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات بھارتی عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
معرکہ حق میں منہ کی کھانے کے بعد بھارت اپنے مہروں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین اور امریکہ کی حمایت سودمند ثابت ہوگی: سینیٹر مشاہد حسین سید۔
مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کا ردعمل قدرے مختلف رہا ہے: سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف ممالک کی جانب سے اپنے مفادات کو مد نظر رکھا گیا: سابق صدر آزاد کشمیر۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بطور انٹرنیشنل سول رائٹس موومنٹ کے طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے: سابق صدر آزاد کشمیر۔
ہر سال یوم یکجہتی کشمیر پاکستانی عوام کی اپنے کشمیری بھائیوں سے دلی وابستگی اور حق خود ارادیت کے حصول میں ان کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا مظہر ہے: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور بھارتی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے: رضوان سعید شیخ۔
سالہا سال سے التوا کا شکار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے کردار اور فعالیت پر سوالیہ نشان ہے: رضوان سعید شیخ۔
پانچ اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام اور غزہ کی صورتحال کے بعد مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے : پاکستانی سفیر۔
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پہلو تہی کی پالیسی علاقائی اور عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے: سفیر پاکستان۔
٭٭٭

